31 مئی 2026 - 09:44
امام سید علی حسینی خامنہ ای کی مؤمنانہ حکمرانی کا راز کیا ہے؟

جس طرح کشش ثقل کا قانون ہر جگہ جاری ہے اور انسان کی خواہش سے تبدیل نہیں ہوتا، اسی طرح الٰہی سنتیں بھی انسانی حیات اور انسانی معاشروں پر حکم فرما ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس دور میں ـ جبکہ دنیا ماضی سے کہیں زیادہ 'مادی حسابات'، 'قلیل مدتی' تجزیوں اور 'طاقت کی منطق' کے تحت آگے [نامعلوم منزل کی طرف] بڑھ رہی ہے، ـ "الٰہی سنتوں" کے بارے میں بات کرنا، جو تاریخ اور معاشرے پر جاری قوانین کی مانند ہیں، ایک مختلف اور کشادگی پیدا کرنے والا نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ تاریخ اور معاشرے پر جاری قوانین کے طور پر، "الٰہی سنتوں" کے بارے میں بات کرنا، ایک مختلف اور راہ گشا نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔

کتاب "در آغوش نیل" (نیل کی آغوش میں) بالکل اسی نکتے پر زور دیتی ہے؛ اس بنیادی عقیدے پر کہ کائنات کے وسعتوں میں کوئی بھی واقعہ الٰہی قوانین کے دائرے سے باہر اور اتفاقی طور پر رونما نہیں ہوتا۔ یہ تصنیف یہ واضح کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کائنات، ـ خواہ فطرت کے میدان میں ہو یا معاشرے کے میدان میں ـ مستقل، زندہ اور ناقابلِ تخلف قواعد کے مدار میں چلتی ہے؛ ایسے قواعد جن کا اگر صحیح ادراک کیا جائے تو یہ تاریخ کا راستہ روشن کر سکتے ہیں۔

یہ کتاب، الٰہی سنتوں کو محض ایک کلامی یا تفسیری تصور نہیں سمجھتی، بلکہ اسے تاریخ کی حرکت اور معاصر دنیا میں مؤمنانہ زیست کے ادراک اور سمجھ بوجھ کی کنجی قرار دیتی ہے۔ اس تصنیف میں الٰہی سنت، دوسرے الفاظ میں، وہی پوشیدہ نظام اور 'تاریخ کی پوشیدہ قانون پسندی' (History's hidden legalism) ہے جو کائنات کے بظاہر بکھرے ہوئے اور پیچیدہ تغیرات کے پسِ پردہ جاری و ساری ہے؛ اور جس طرح کشش ثقل کا قانون ہر جگہ جاری ہے اور انسان کی خواہش سے تبدیل نہیں ہوتا، اسی طرح الٰہی سنتیں بھی انسانی حیات اور انسانی معاشروں پر حکم فرما ہیں؛ فرق یہ ہے کہ ان کا ادراک محض مادی نقطۂ نظر اور مادی سوچ کے لئے زیادہ دشوار ہے۔ اس زاویئے سے، کتاب "در آغوش نیل" قاری کو واقعات کے ظاہری صورت سے آگے، غور و فکر کی دعوت دیتی ہے؛ ایک ایسا غور و فکر جس میں تاریخ، اتفاقیہ واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ الٰہی ارادے کے ظہور کا منظرنامہ ہے۔

اسلامی انقلاب کے شہید رہبر، آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی فکر اور سلوک میں اس نقطۂ نظر کی اہمیت نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اللہ کے وعدوں کے حتمی وقوع پر گہرا یقین اور الٰہی سنتوں پر اعتماد، ـ ان کی فکری اور ذاتی شناخت کی بنیادی خصوصیات میں گردانا جاتا ہے؛ ایک ایسی خصوصیت جو ان کے فیصلہ سازی، تدبیر، رہنمائی اور تاریخ کے حساس موڑوں پر ان کے استقامت کے انداز میں عیاں ہوئی ہے۔ کتاب اسی بنیاد پر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ان کی مضبوطی اور سکون و اطمینان، عارضی اور محض مادی حسابات سے جنم نہیں لیتا بلکہ پروردگار کے تکوینی قواعد پر گہرے ایمان میں پیوست ہے۔

دوسری طرف کتاب "در آغوش نیل" آج کے بے چین دور اور علاقائی تبدیلیوں کے متن میں دوہری معنی کی حامل ہوجاتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو دوسری منطق سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہے: الٰہی وعدوں پر اعتماد اور واقعات کی تاریخی فہم و ادراک کی منطق۔ یہ تصنیف اسی وجہ سے محض ایک نظری کتاب نہیں، بلکہ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لئے ایک تزویراتی متن ہے۔

یہ کتاب 208 صفحات میں مربوط طور پر الٰہی سنت کی تعریف اور اس کی خصوصیات، سنتوں کی اہمیت اور اقسام اور ان کے وقوع کے شرائط، الٰہی سنتوں پر اعتماد کے اثرات اور نیز انبیاء کی تاریخ میں ان کی ٹھوس مثالوں ـ جیسے مسائل پر ـ پر گفتگو کرتی ہے۔ یہ ڈھانچہ اس بات کا سبب بنا ہے کہ یہ تصنیف ایک طرف تعلیمی پہلو اور دوسری طرف الہامی (inspirational) اور متاثر کن پہلو کی حامل ہے۔ قاری اس کتاب کے مطالعے کے دوران، صرف ایک تصوراتی مجموعے کا نہیں بلکہ ایک خاص قسم کے عالمگیر نقطۂ نظر کا سامنا کرتا ہے؛ ایک ایسا نقطۂ نظر جو کہتا ہے کہ شدید ترین بحرانوں کے اندر بھی 'تاریخ کی پوشیدہ قانون پسندی' اور 'نصرتِ الٰہیہ'، کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha